آج اسے احساس ہوا تھا کہ دنیا میں رہنے کے لۓ پیسہ اور کسی کی سرپرستی کتنی ضروری ہے۔ — Rimsha Qazi, دستِ سائبان Copy Share WhatsApp
by Rimsha Qazi
Contemporary Fiction · 24 pages
“تقویٰ کو اب لگنے لگا تھا کہ اللہ اس کو اولاد اس لۓ نہیں دے رہا کیونکہ وہ غیر اللہ کے آگے سوالی بننے کا گناہ کر چکی ہے۔”
“"شامیر اگر میں اس گھر کے بارے میں کوئی فیصلہ آپ سے بغیر پوچھے لے لوں، تو؟" اس نے ایک لمحے کے لیے شامیر سے نظریں ملائیں اور پھر چرا لیں۔”
“کپڑے بدل کے ارحم کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آگئی تھی، آخر کو تھا تو وہ بھی بچہ ہی نا۔”
A medical student and a wanna-be writer who finds solace in reading and writing. Creating art with words is my way to escape the reality.
“تمہیں معلوم ہے کہ جو کچھ ہم سکول میں سیکھتے ہیں عملی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔”
“انھیں زندگی کے سارے رنگوں کو صفحہِ قرطاس پر بکھیرنا اچھا لگتا ہے،زندگی کے تلخ و شیریں لمحات و احساسات ان کے زیر قلم رہے ہیں۔”
“ان کی زندگی کے بڑے مقاصد میں سے ایک اپنے اور اپنے مدرسے کے بچوں کی تربیت اللہ کے احکامات کے مطابق کرنا اور اپنے گھر کو اللہ کی راہ میں وقف کرنا ہے۔”
“محسن نے بغور دیکھا کہ عمر بڑے آرام سے گھر کا گیٹ بند کر رہا ہے ،جیسے کہ گھر میں کسی کو پتہ نہ چلے کہ وہ باہر جا رہا ہے .”
Enter your account email and we'll send you a reset link.