اس کو اس طرح دل چیرنے والے انداز میں روتا دیکھ کر تقویٰ کی برسوں سے دبی مامتا جاگ گئی اور اس نے فوراً اس بچے کو گلے سے لگا لیا۔ — Rimsha Qazi, دستِ سائبان Copy Share WhatsApp
by Rimsha Qazi
Contemporary Fiction · 24 pages
“تقویٰ کو اب لگنے لگا تھا کہ اللہ اس کو اولاد اس لۓ نہیں دے رہا کیونکہ وہ غیر اللہ کے آگے سوالی بننے کا گناہ کر چکی ہے۔”
“"شامیر اگر میں اس گھر کے بارے میں کوئی فیصلہ آپ سے بغیر پوچھے لے لوں، تو؟" اس نے ایک لمحے کے لیے شامیر سے نظریں ملائیں اور پھر چرا لیں۔”
“کپڑے بدل کے ارحم کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آگئی تھی، آخر کو تھا تو وہ بھی بچہ ہی نا۔”
A medical student and a wanna-be writer who finds solace in reading and writing. Creating art with words is my way to escape the reality.
“اسے وہ بزرگ یاد آئے تھے اور ان کی پاکستان سے بے انتہا محبت یاد آئی تھی۔”
“جس نے آپ کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا اور جب آپ نے مزید اس کی بات ماننے سے انکار کردیا، تو اس نے بدلہ لیا ہے۔”
“شاید مجھے اس سے محبت ہو چلی تھی، لیکن بھلا ایسے کیسے ہوسکتا تھا؟ میں ایک خیال سے، ایک احساس سے محبت کیسےکرسکتا تھا ؟ میں ایک انسان تھا۔”
“کچھ لفظ بیان کریں گے خوشی اور کچھ تصویر پیش کریں گے غم کی اور کہیں محسوس ہوگی آنسوؤں کی نمی، کیوں کے دل کے افسانے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.