متبادل مستقبل کی تشکیل اسی وقت ممکن ہے جب نیا معروض کھڑا کرنے کے لیے اس بنیاد کو بدلا جاۓ گا جس پر موجودہ معروض کا پورا ڈہانچہ کھڑا ہوا ہے۔ — Adil Seemab, اپنے حصے کی شمع Copy Share WhatsApp
by Adil Seemab
Non-Fiction · 25 pages
“سماجی سائنسی علوم کے استقبالی پہلو میں دلچسپی رکھنے والے محقیقین سہیل عنائت للہ کے نام سے یقینناؑ آگاہ ہوں گے۔”
“معروض کے تجزیے اور متبادل مستقبل کی تشکیل کے لیے سہیل کا ''علتی تہوں کے تجزیے کا نظریہ'' ایک بہت دلچسپ طریقہ کار ہے جو اپنے معروض کو سمجھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔”
“قومی بیانیے کو اسکے تاریخی پس منظر میں سمجھے بغیر نہ تو ایک متبادل بیانیہ ترتیب دینا ممکن ہے اور نہ ہی ایک متبادل نظام کی نقش گری کی جاسکتی ہے۔”
“مختلف عالمی مجّلوں میں سیاسی و بین الاقوامی تعلقات پر تحقیقی مقالے لکھنے کے علاوہ گاہے گاہے نثر و نظم میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔”
“' صدائے دروں' عادل سیماب کی نثری اور آزاد نظموں کا پہلا مجموعہ ہے۔”
“آپکی انفرادیت جدید فلسفیانہ رجحانات و مباحث کو اپنی نثری و آزاد نظموں میں منتقل کرنا اور اپنے معروض کے مسائل پر بلاخوف تبصرہ ہے۔”
I have been associated with teaching profession since last twelve years. I love to compose Nasri and Azad nazm in Urdu. My favorite poets are Rashid, Faiz and Faraz.
“چمنی سےاٹھتا رقص کرتا دھواں، اور اس دھویں میں سے چھن کر آتی چاند کی روشنی، کیا سماں ہوتا تھا۔”
“"تو کیا وہ جو کچھ میرے ساتھ پیش آیا وہ محض خواب تھا؟" شاہ زیب گھر آنے تک خود سے سینکڑوں بار سوال کر چکا تھا۔”
“اُس دن دستور قبیلے کے بچوں کو کھیلتا دیکھ کر اسے کتاب کی پہیلی کا راز مل گیا تھا کہ "ہر آنکھ دوسری آنکھ کی روشنی" سے مراد "انسانیت" ہے۔”
“ہم ہمیں یہ یقین ہے اگر نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کریں تو یہ بہت آگے جا سکتے ہیں اور یہ حقیقت حال بھی ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.