اُس کی محبت یاد آئی اور پھر اُس کی رب سے محبت کے قصے یاد آئے۔ — Aiman Riaz, طمانیت / Tamaniyat Copy Share WhatsApp
by Aiman Riaz
Romance · 30 pages
“ساری عمر جس محبت کی کھوج میں لگی رہی، آج جب ملی تو اُسے اپنی بے حسی کی بھینٹ چڑھا کرآپ اپنا سکون تیاگ کر لیا۔”
“اگر میں تم پر ایک جملے میں محبت کی شناخت ظاہر کروں تو یہی کہوں گی کہ حقیقی محبت وہ ہے جو ہم رب سے کرتے ہیں۔”
“طمانیت فقط اِک جسم نہ تھا، ایک جذبہ تھاجو ہمیشہ ایک دوست کے روپ میں میرے ساتھ رہا، سدا میری شناخت رہا اچھی یا بُری ، یہ طے کرنا ضروری نہیں۔”
“زمین جب شعلے اُگلتی ہے تو آسمان کا بال بھی بِیکا نہیں کر پاتی مگر جب آسمان بجلیاں گراتا ہے تو زمین کا سینہ چھلنی ہو جاتا ہے۔”
“ذہن کی فتح اِک ایسا ہتھیار ہے جس کے آگے دنیا ہتھیار ڈال دیتی ہے۔”
“اِس سے پہلے کہ والی کاکا صورتحال سمجھتا، ایک گولی سنسناتی ہوئی آئی اوراُس کے پیچھے کھڑا بندہ بھی کٹے شہتیر کی مانند گر کر ڈھیر ہو گیا۔”
“اُس کی کُشادہ پیشانی پر کامیابی کی لکیروں کا ایک جال سا بُنا ہوا تھا جسے وہ آنکھیں مِیچ کر مزید نمایاں کرنے کی جستجو میں لگا رہتا۔”
I am AIM of someone's life And I am the most powerful weakness of a common man...
“اس کی ماں بھی ایسی ہی تھی اس کے لئے خدا کے حضور دعاؤں کی گڑگڑاہٹ جاری رکھتی، اور وہ ماں کو اکثر دیکھ کر رہ جاتا۔”
“گھر والوں کو شدت سے احساس دلانے کی کوشش کرے کہ وہ جسم بے شک کوئی اور رکھتا /رکھتی ہے مگر روح سے مخالف جنس کی ہے۔”
“جس میں دھوکا، وفا، غداری، احسان فراموشی، بھروسہ، قربانی اور بے لوث جذبہ جيسی انسانی خصوصیات شامل ہیں۔”
“خوفِ آدم کی اس دنیا میں آنے کے بعد محبت نفرت رقابت قربانی سب جذبے بنیادی طور پر ویسے ہی تو ہیں ۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.