ساری عمر جس محبت کی کھوج میں لگی رہی، آج جب ملی تو اُسے اپنی بے حسی کی بھینٹ چڑھا کرآپ اپنا سکون تیاگ کر لیا۔ — Aiman Riaz, طمانیت / Tamaniyat Copy Share WhatsApp
by Aiman Riaz
Romance · 30 pages
“طمانیت فقط اِک جسم نہ تھا، ایک جذبہ تھاجو ہمیشہ ایک دوست کے روپ میں میرے ساتھ رہا، سدا میری شناخت رہا اچھی یا بُری ، یہ طے کرنا ضروری نہیں۔”
“عہدِ رفتہ کے سماجی انصاف کی یہی ساخت ہے، پیمانِ چاہت کی یہی شناخت ہے۔”
“اگر میں تم پر ایک جملے میں محبت کی شناخت ظاہر کروں تو یہی کہوں گی کہ حقیقی محبت وہ ہے جو ہم رب سے کرتے ہیں۔”
“اُس کی کُشادہ پیشانی پر کامیابی کی لکیروں کا ایک جال سا بُنا ہوا تھا جسے وہ آنکھیں مِیچ کر مزید نمایاں کرنے کی جستجو میں لگا رہتا۔”
“اِس سے پہلے کہ والی کاکا صورتحال سمجھتا، ایک گولی سنسناتی ہوئی آئی اوراُس کے پیچھے کھڑا بندہ بھی کٹے شہتیر کی مانند گر کر ڈھیر ہو گیا۔”
“قلم اٹھاتے وقت یہ گمان نہ تھا کہ لکھت نگر میں قدم رنجه ہو کر نئى نئى کئى دنیائیں دریافت کروں گى۔”
“"کوئی بتا ئے گاکیسے؟" نجف نے سوالیہ انداز میں سب کی طرف دیکھا مگر اِس مرتبہ کسی کی جواب دینے کی ہمت ہی نہ ہوئی مباداً غلط نکلا توسُبکی ہو گی۔”
I am AIM of someone's life And I am the most powerful weakness of a common man...
“اگر اُسے پتا چل جائے کہ وہاں بھیا دوسری برانچ چلا رہے ہیں تو شاید خوشی سے بے ہوش ہو جائے مگر اس کی خوشی ہمیں بھاری پڑ سکتی ہے۔”
“سب لوگوں نے جس طرح ہمارے ڈرامے اور سیٹ کو سراہا تھا، وہ خوشی آج بھی دل و ذہن کے کسی کونے میں پڑی مسکراتی ہے اور زندگی میں کئی دفعہ تقویت کا باعث بنی ہے۔”
“آمنہ خاموشی سے آپی کو سنے جا رہی تھی، جھنجھلاہٹ ختم ہو گئ تھی، سوالوں کا سمندر پر سکون تھا۔”
“ہسپتال سے جانا بھی ایسے ہی خوشی کا باعث ہوتا ہے جیسے قید سے رہائی ملی ہو!”
Enter your account email and we'll send you a reset link.