دماغ کے ڈاکٹر کو دکھایا، خود بھی اسے سمجھایا اور اس کے لیے گھر میں استا د بھی رکھے جو اسے مردوں والے طور طریقے سکھاتے لیکن سب بیکار گیا۔
— Monaa Sohail, شناخت- Identity Novel
“جانتے ہیں جب کسی زینب کے سا تھ زیادتی ہوتی ہے تو میں زیادتی کرنے والے سے زیادہ ان والدین کو ظالم سمجھتا ہوں جنہوں نے ان درندوں کے سامنے اپنی اولادیں پھینک رکھی ہیں۔”

“آخر کب تک آپ ڈرا دھمکا کر اپنے بچوں کے گلے گھونٹتے رہیں گے اور کیوں؟ کیا لوگ اور خاندانوں کی نام نہاد عزتیں آپ کے بچوں کی عزت نفس سے زیادہ اہم ہیں؟ نہیں!”

“تم نے عقل سے کام لیا اور زاروک کو اس کے منتر سے ہی مات دی اور اب کی بار وہ کسی تاریک غار میں قید کردیا گیا ہے۔”

“نہیں سمجھ آ رہا تھا کے اُسے کس طرح بتاؤں کہ میں اُس سے کئی گُنا زیادہ پیار کرتا ہوں جتنا وہ ریان سے کرتی ہے۔”
