نجمہ اور سالار احمد کے لاکھ سمجھانے پر بھی وہ آئے دن گھر میں ایسے ہی ہنگامے کرتا اور شیری کو گھر سے نکالنے کا تقاضا کرتا۔
— Monaa Sohail, شناخت- Identity Novel
“ہانیہ کو یقین تھا کہ بچے کی پیدائش پراس کے گھر والوں کا دل ضرور پگھلے گا لیکن اس کے میکے والوں نے اس موقع پر بھی کوئی خاص گرم جوشی نہ دکھائی۔”

“کیونکہ جسم کے گھاؤ تو دکھائی دیتے ہیں ان پر مرہم رکھا جا سکتا ہے لیکن روح کے گھاؤ اندر ہی اندربہت خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کرتے چلے جاتے ہیں۔”

“اس رات میں واقعی یہ سمجھی تھی کہ اب سب بدل گیا ہے، ماموں کو ابا نے بھیجا ہے اور ابا مجھے شادی ہال میں بلا رہے ہیں۔”

“میرے ذہن میں اس پابندی کا کوئی عقلی جواز نہ تھا لیکن لاشعور میں یہ احساس موجود تھا کہ اس طرح کی پابندیوں کی خلاف ورزی سے "دنیا" بدل جاتی ہے۔”
