جب دل ٹوٹے تو انسان کسی نہ کسی طرح خود کو سنبھال ہی لیتا ہے، پر جب روح تار تار ہو جائے تو ایک بار تو انسان مر ہی جاتا ہے۔ — Amna Shehzadi, Ghungroo- Urdu Novel About Identity Copy Share WhatsApp
by Amna Shehzadi
Contemporary Fiction · 30 pages
“شنایہ کے چہرے پر کچھ بیزاری آئی لیکن اُس نے رخسار اور ڈرائیور کی بات پر کوئی کان نا دھرے اور بد ستور اپنے موبائل میں مصروف رہی۔”
“جب انسان اپنے پیروں کی زمین چھوڑکر آسمان کو پانے کی کوشش کرتا ہے، تو ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب آسمان انسان کو منہ کے بل گراتا ہے اور زمین واپس قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔”
“بہار بیگم کا خدشہ جلد سچ ثابت ہوا جب ایک دن ماہ نور نے انہیں یہ کہہ کر گھنگرو واپس کر دیے کہ وہ اپنے کوٹھے پر واپس جانا چاہتی ہے اور اسے اس فن سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔”
“باپ کی بروقت مداخلت سے بہن کی عزت تو بچ گئی پر صدمہ باپ کی جان لے گیا۔”
“'' ملنگ کی دلہن تم نے ہی چرائی تھی نا؟ درندے ہو تم اللہ تمہیں کبھی معاف نہیں کر ے گا کبھی نہیں۔”
“چھ سال کی زرمینہ آنکھیں ملتی ہوئی ُاٹھی اور بستر سے ُاتر کے سیدھا باپ کے پاس آئی اور باپ کے دائیں کندھے سے لپٹ گئی۔”
“پرویز کو لگا تھا کہ جس دن زرمینہ کی ماں اس دنیا سے گئی تھی قیامت اُس دن آئی تھی، پر وہ غلط تھا قیامت نےتو آج آنا تھا۔”
A girl with high dreams and aspirations; trying to leave a mark on people's heart with her words.
“مجھے اردو شاعری کا شوق اپنے کالج دور کے استادمحترم جناب تحسین فراقی صاحب کی عنایت اور محبت سے پیدا ہوا۔”
“کچھ رشتے، کچھ لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں جنھیں تنہائی میں یاد کرنا ہی اچھا لگتا ہے۔”
“دھوکا پتہ نہیں کس کو دے رہا ہوں میں؟ گھر پر بھی تو میں اکیلا ہی ہوں- تو اس پگڈنڈی پر ہر شام سیر کرنے کیوں آتا ہوں؟ گھر میں تنہائی چھوڑکے اکیلاپن ڈھونڈنے؟ یہ بھی کیا اداس واڈامبنا!”
“نیک برخوردار کے نامزدہ جنگل کے قریب پہنچ ہی گیا تھا کے من میں دن بھر کے واقعات پر ذہنی تبصرہ کرنے لگا- صبح، دوپہر، شام، سب ایک ہی کھچڑی میں مل گئے- 'یہ بھی چھوڑو یار!”
Enter your account email and we'll send you a reset link.