لوگوں کی ہمدردیاں بدل چکی تھیں اور غیرمتوقع نتائج سامنے آۓ تھے۔ — Musab Umair, نفرت / Nafrat Copy Share WhatsApp
by Musab Umair
Contemporary Fiction · 30 pages
“متین نے اس سے پہلے آج تک کبھی اپنی شعوری زندگی میں لوگوں کو اس قدر جذباتی اور پرجوش نہیں دیکھا تھا۔”
“انسان اپنی عقل اور تدبیر پربھروسہ کرتا ہے مگر یہ بھول جاتا ہے کہ ایک تدبیر کرنے والا اوپر بھی ہے جو سب سے بہتر تدبیر کرتا ہے۔”
“بات تکرار میں بدل گئی اور تو تو میں میں عروج پرپہنچی ہی تھی کہ اچانک اس کے باقی ساتھی فرحان سمیت ادھر پہنچ گئے کہ اتنی دیر کیوں لگ گئی۔”
“میری شاعری تھوڑی درد بھری ہے، پر میں اللّہ کے فضل سے ہر قسم کی طبیعت کا مالک ہوں۔”
“قیدِ حیات میں مصنّف نے اپنی والدہ مرحومہ کی بے مثال زندگی اور لازوال موت کے ناقابلِ یقین اور تلخ حقائق سے پردہ اُٹھایا ہے اور ان کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیاہے۔”
“’’میری دعاؤں کا اثرنہیں تھا اجمل شاہ تو بددعا میں کیا اثر ہوگا؟‘‘بدریکا جمال نے میسج کیا اور دو آنسو اس کی آنکھوں سے لرز کر گالوں کو تر کر گئے۔”
“لال پری نے روبا، نوبا کو کاہلی، سستی اور مقررہ وقت پر کام نہ کرنے کی ایسی سزا دی کہ پورا غار خون کے آنسوؤں سے ڈوب گیا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.