لہٰذا جب مجھے فون پر دوست سے بات کرنے کے لیے بلایا جاتا تھا پورے گھر کو پتہ چل جایا کرتا تھا کہ اِرم کا فون ہے۔ — Fouzia Malik, PAZAIB / پازیب- Friendship-Based Urdu Novel Copy Share WhatsApp
by Fouzia Malik
Contemporary Fiction · 5 pages
“نکاح کا پتہ ماں باپ اور بہن بھائیوں کو چلا تو سارے خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔”
“اِرم اپنے خاوند کے ساتھ جا چکی تھی اور ماں باپ اپنے رشتہ داروں اور محلے والوں سے بے حد شرمندگی کے مارے ملنے جلنے سے قاصر ہو چکے تھے۔”
“ایک بے حد اچھی اور بہت پیاری دوست کی طرف سے محبت کی یہ چھوٹی سی نشانی پا کر جو خوشی ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔”
Born in Rawalpindi. Graduated from Waqar un Nisa College Rawalpindi. Holds double Masters Degrees ie in History and Education. Is married and happy to remain a housewife and take care of her sweet …
“باجی کہہ رہی ہیں چھ ساتھ اچھے سے بڑھیا والے پان بناکراوپر بھیج دینا ۔”
“ایک تو شمالی علاقہ جات کی ساری وادیاں انتہائی حسین اوپر سے ہر وادی کا ذاتی پالتو دریا ان وادیوں کے حسن کو چار چاند تو لگا ہی دیتا ہے ساتھ میں سیّاحوں کی بھی چاندی ہو جاتی ہے ۔”
“فوٹوگرافی اور سیاحت میرے دو ایسے جنون تھے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتے جا رہے تھے۔”
“نجمہ اور سالار احمد شیری کو اپنے ساتھ کہیں باہر نہیں لے جاتے تھے تو وہ بھی ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے گھر پر ہی رک جاتی۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.