نکاح کا پتہ ماں باپ اور بہن بھائیوں کو چلا تو سارے خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ — Fouzia Malik, PAZAIB / پازیب- Friendship-Based Urdu Novel Copy Share WhatsApp
by Fouzia Malik
Contemporary Fiction · 5 pages
“"یہ تم رکھ لو مجھے اب اس کی ضرورت نہیں رہی" مانگنے والی نے خوشی سے وہ پازیب پکڑی اور دعا دیتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔”
“لہٰذا جب مجھے فون پر دوست سے بات کرنے کے لیے بلایا جاتا تھا پورے گھر کو پتہ چل جایا کرتا تھا کہ اِرم کا فون ہے۔”
“جلد ہی بازار کے شور نے مجھے متوجہ کیا اور میں شاپنگ چھوڑ کر گھر واپس آگئی کہ اب کچھ اور خریدنا میرے لیے ممکن نہ تھا۔”
Born in Rawalpindi. Graduated from Waqar un Nisa College Rawalpindi. Holds double Masters Degrees ie in History and Education. Is married and happy to remain a housewife and take care of her sweet …
“مگر ایک وہ انسان بہت خوش قسمت ہے جس کی غیر موجودگی میں لوگ اسکی عزت کریں اور دوسرا وہ جس کے جانے کے بعد اسکی یاد میں تنہائی میں آنسو بہائے جائیں اور سوچا جائے کہ اتنی جلدی۔۔”
“دروازہ خاموشی سے بند کرتے ہوے مسکرائیں اور سوچا "عاشق کو تنہائی میں تنگ نہیں کرنا چاہیئے"۔”
“مجھے اس سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں کہ بچھڑا محبوب ملتاہے یا نہیں، مگر مجھے اپنی اس کردارکشی پر سخت اعتراض ہے۔”
“کبھی شب کی تنہائیوں میں تم میرے ساتھ ہوتے ہو، کبھی دن کی اداسیاں تمہاری یاد سے سنور جاتی ہیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.