ایک اور چیز جس نےمجھے حیرت میں ڈالا وہ یہ تھی کہ ناروے میں انگریزی تو سب سمجھتے ہیں پر بولتا کوئی بھی نہیں ہے۔ — Khurram Sheikh Ali, پہلی کوشش - Pehli Koshish- Urdu Poetry Book on Reality of Life Copy Share WhatsApp
by Khurram Sheikh Ali
Poetry · 112 pages
“لوگ کچرا صرف کچرا دان میں پھینکتے ہیں اور اگر کوڑادان نہ ہو تو اپنا کچرا وہ جیب میں رکھتے ہیں۔”
“جس کی وجہ سے آج، ان کے گزر جانے کے بعد بھی لوگ انھیں عزت سے یاد کرتے ہیں۔”
“پہلے سکول کالج پھر یونیورسٹی میں معاشرے کو سمجھنے کا سفر شروع کیا، اور وہ اب تک جاری ہے۔”
میرا نام خرمؔ علی شیخ ہے۔ میں ۱۹۷۵ء میں ناروے کے شہر اوسلو میں پیدا ہوا۔ میرے والد بہتر مستقبل کی غرض سے۱۹۷۱ءمیں ناروے تشریف لائے۔ ابتدائی تعلیم میں نے St. Paul school کراچی پاکستان سے حاصل کی۔ بعد…
“نجمہ اور سالار احمد کے لاکھ سمجھانے پر بھی وہ آئے دن گھر میں ایسے ہی ہنگامے کرتا اور شیری کو گھر سے نکالنے کا تقاضا کرتا۔”
“مگر میں نے اس سے یہ پوچھنا ہر گز مناسب نہ سمجھا کہ آخر وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔”
“اس سے پہلے کے ارغوان کچھ سمجھتا رومی روشی کو پکارتا ہوا اس حصار سے باہر نکل گیا۔”
“اس رات میں واقعی یہ سمجھی تھی کہ اب سب بدل گیا ہے، ماموں کو ابا نے بھیجا ہے اور ابا مجھے شادی ہال میں بلا رہے ہیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.