مروی نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی, چھوٹی بہنوں کو بھی اپنی سمجھ کے مطابق ایک ماں کی طرح دنیا کی اونچ نیچ سمجھاتی رہتی۔
— Farah Bhutto, اعتبار کا موسم
“۱۹۸۸ء میں مذہبی شدت پسندی اور نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے میری طبیعت خراب ہوگئی تو امی نے مجھے سمجھایا کہ زندگی کے ہر شعبے میں میانہ روی ضروری ہے۔”

“اس کے پاس ایسا علم تھا کہ اگر وہ دوستاروں پر قابو پا لیتا تو دنیا کے تمام انسانوں کے ذہنوں کی ڈوریاں اس کے ہاتھوں میں آجاتیں۔”
