جہاں پڑھے لکھے ہونا یا ان پڑھ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ یہاں انصاف کے ترازوکا پلڑا مکھیا جیسے لوگوں کی جھولی میں جُھکتا ہے۔ — Asma Hassan, اُفق کے اُس پار Copy Share WhatsApp
by Asma Hassan
Drama · 16 pages
“ماں باپوکی آنکھوں میں ٹھہرے آنسواُسے اپنی بے عزتی سے کہیں زیادہ بیش قیمت محسوس ہوتے ۔”
“اس کے دل و دماغ میں موجزن کوئی عجب سی خوشی و خرسندی اس کی بڑی بڑی آنکھوں سے صاف عیاں تھی۔”
“کبھی کبھار بستے میں جھانک کر یوں دیکھتا ،جیسے کوئی اپنی نئی نویلی دلہن کو محبت بھری نگاہوں سے پیار کے سندیسے سناتاہے ۔”
Short Story writer. Favourite Category in writing is "Afsana Nigaari" and "Novel Nigaari"
“اسے لگتا تھا اس انگوٹھی کی وجہ سے وہ اس عورت کو دیکھ رہی ہے جو سب مظلوموں کی دادرسی کررہی ہے۔”
“عہدِ رفتہ کے سماجی انصاف کی یہی ساخت ہے، پیمانِ چاہت کی یہی شناخت ہے۔”
“(یہ نظم ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی ماں اور بچے کی صحت پر مبنی ملک گیر مہم ’امید سے آگے‘ کے لیے میری جانب سے وقف کردی گئی ہے۔)”
“انسانیت، برابری، جو ہمارے اقدار ہیں وہی ان کی ہیں فرق یہ ہے کہ نارویجن قوم اس پہ عمل پیرا ہیں اور ہم پاکستانی نہیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.