جسے سن کر بہت سی عورتوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ان ماں بیٹی کا تمسخر اڑایا ۔۔ — Saba Ahmad, جہاں آراء Copy Share WhatsApp
by Saba Ahmad
Religious · 30 pages
“جن کاموں سے پہلے وہ بس جان چھڑایا کرتی تھی اب انہی کاموں کو وہ لگن سے کرنے لگی۔”
“جہاں آراء ناگواری سے اس شخص کے منہ کی طرف دیکھ رہی تھی جس نے آج اس کا ہاتھ پکڑنے کی جرات کی تھی۔۔”
“ناچارہ وہ خود ہی آگے بڑھا اور اس کا منہ اوپر اٹھایا اور اس کی آنکھوں کے کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔۔”
Meri zaat zar e beneshan
“'تم نے آج بھی دوپٹہ نہیں لیا ؟ تمہیں پتہ بھی ہے کہ بے پردہ عورت کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔”
“معلوم ہوا کہ امارات والے عرب بھلے مانس لوگ ہیں کسی کا بھی دل بُرا نہیں کرتے چنانچہ ساحل کو مختلف حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔”
“آخر کب تک آپ ڈرا دھمکا کر اپنے بچوں کے گلے گھونٹتے رہیں گے اور کیوں؟ کیا لوگ اور خاندانوں کی نام نہاد عزتیں آپ کے بچوں کی عزت نفس سے زیادہ اہم ہیں؟ نہیں!”
“زندگی کا تیز بہاؤ اِس قدر اُلجھاتا ہے کہ جیسے وہ کردار ہماری زندگی میں کبھی نہیں تھا. کامیاب لوگ وہی ہوتے ہیں جو حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں.”
Enter your account email and we'll send you a reset link.