ناچارہ وہ خود ہی آگے بڑھا اور اس کا منہ اوپر اٹھایا اور اس کی آنکھوں کے کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔۔ — Saba Ahmad, جہاں آراء Copy Share WhatsApp
by Saba Ahmad
Religious · 30 pages
“میری امی جان فوزیہ ناہید ، والد ظہور احمد (مرحوم) ، میرے شریک حیات احمد نواز اور میری بیٹی ماہ نور خان کے نام جن کا ہونا میری زندگی میں باعثِ فخر ہے۔”
“جہاں آراء ناگواری سے اس شخص کے منہ کی طرف دیکھ رہی تھی جس نے آج اس کا ہاتھ پکڑنے کی جرات کی تھی۔۔”
“آج پوتے کے چہرے پر پھیلے سکون کو دیکھنے کے لیے ان کی بےچین نگائیں بار بار گیٹ کی طرف اٹھ رہی تھیں۔”
Meri zaat zar e beneshan
“جاویدکو ڈر لگنے لگا کہ کہیں اماں بھی قمرالنساء والی بات نہ کر دیں۔”
“اس عشقِ حقیقی کی شمع دل میں جل اٹھے تو وہ طور کو بھی راکھ کر دیتی ہے۔”
“اس کے گھر مرد اپنی عورتوں کے چونچلے نہیں اٹھاتے تھے لیکن ان کی بے عزتی بھی نہیں کرتے تھے یہ ہنر صرف عرفان اصغر بریانی والے کو آتا تھا ۔”
“اس کے باوجود اس کے باوجود میں خاموشی سے اٹھتا ہوں اور اپنی ای در یک کو دریا میں ڈال دیتا ہوں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.