“ہم اس کی بنائی گئی کسی شے میں تبدیلی نہیں کرسکتے اور دوسرا ہم کبھی خدا نہیں بن سکتے، کیونکہ ہم انسان ہیں اور ہر ذی روح کو ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔”

“جیز، زوبی کا چہرہ زینب حسین جیسا کرنے میں جُت گیا اور ہر شے کی پروا کیئے بغیر دن رات زینب حسین کو اپنے طور پر نئی زندگی دینے کی کوششوں میں تھا۔”

“کیا ایسا ہی ہے؟ ہمارا اور اللہ کا تعلق بس مالک اور نوکر والا ہے؟ ہمیں ہمیشہ یہی بات ہی تو بتائی گئی ہے کے اللہ کا ہر حکم ماننا ہے کیوں کے وہ مالک ہے۔۔”

“کیونکہ جسم کے گھاؤ تو دکھائی دیتے ہیں ان پر مرہم رکھا جا سکتا ہے لیکن روح کے گھاؤ اندر ہی اندربہت خاموشی سے اپنی جڑیں مضبوط کرتے چلے جاتے ہیں۔”
