''لو بھئی اپنی اماں بھی خوب ہے دیکھو ذرا روز تمہٖیں دیکھتی ہے پھر بھی اسے خوابوں میں آنے والے جن بھوتوں سے ڈر لگتا ہے۔ — Sehrish Mustafa, زِندگی شرط ہے Copy Share WhatsApp
by Sehrish Mustafa
Contemporary Fiction · 25 pages
“ہماری قسمت کے تالے کی چابی ہمارے اندر موجود ثابت قدمی ، ہمت، ذہانت اور اپنے حصے کی ذہنی و تخلیقی صلاحیتوں کا درست استعمال اور صبر ہوتی ہے۔”
“اوہ تو اس دنیا میں اتنی آسانی بھی مہیا ہوسکتی ہے کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہر کام اپنی مرضی سے کرتے ہیں دوسرے انسانوں کی بے عزتی بھی۔”
“اسے اطمینان ہوا کہ اس کے اقدام سے اس بے چاری عورت کی زندگی بھی سنور جائے گی وہ اپنے دل کی آواز کو دبانے کے بجائے اس کے مطابق زندگی گزارے گی۔”
I love to write.
“انھیں ابا نے بھیجا تھا کہ وہ مجھے منا لیں، انھوں نے یقین دلایا تھا وہ شرمندہ ہیں۔”
“کوئی اندر داخل ہوا تھا اندھیرا روشنی پر غالب آ گیا تھا اسے آنے والے کے وجود کا احساس تھا مگر وہ شناخت نہیں کرپارہی تھی !”
“حیرت ، خوشی،غیر یقینی اور اسی طرح کے کئی اور جذبات سے اپنی ذات کے لامحدود تقسیم شدہ ذرّات کو کسی نا کسی طرح دوبارہ مجسم کرتے ہوۓ اس کے لبوں سے محض یہی نکل سکا۔”
“سماجی سائنسی علوم کے استقبالی پہلو میں دلچسپی رکھنے والے محقیقین سہیل عنائت للہ کے نام سے یقینناؑ آگاہ ہوں گے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.