اتُھمان سےملتے وقت اُسکا دل بے چین تھا مگر میرال کہ چہرے پر سجی مسکراہٹ دیکھ کر وہ خوش تھا. — Suleman Ashiq, میرال Copy Share WhatsApp
by Suleman Ashiq
Tragedy · 5 pages
“اِنہی باتوں کی بُھول بُھلیاں میں وہ بھٹک رہا تھا کہ آنکھوں سے ایک موتی چھلک کر رخسار پر گرنے کے بعد ہتھیلی پر ٹھہر سا گیا.”
“میرال کے والد استنبول کے ایک اچھے اسٹیک ہولڈرز میں سے ایک تھے.وہ اُسکی بینڈ میمبر کی دوست تھی اور اُسکی کی ینیورسٹی سے آرکیٹیکٹ کررہی تھی.”
“زندگی کا تیز بہاؤ اِس قدر اُلجھاتا ہے کہ جیسے وہ کردار ہماری زندگی میں کبھی نہیں تھا. کامیاب لوگ وہی ہوتے ہیں جو حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں.”
My first language was shy. It's only by having been thrust into words and fantasies penned down, that i have learned to cope with my shyness.
“اگر انکو پتہ لگ جاتا کہ کچھ دیر پہلے وہ انکے مخالف کے بارے میں کتنی خوشی خوشی سے قصیدے پڑھ رہے تھے تو وہ کیا سوچتے!”
“اس کی کلائیوں میں پھول دیکھ کر ایک پھولوں کی خوشبو کا ریلا اس کو خود کی طرف آتا ہوا محسوس ہوا ۔”
“ہسپتال سے جانا بھی ایسے ہی خوشی کا باعث ہوتا ہے جیسے قید سے رہائی ملی ہو!”
“گھوڑے کی ہنہناہٹ اور اس کا دو پیروں پر اچھل کر خوشی سے جھومنا نیلوفر کو حیران کررہا تھا، اور اسی لمحے نیلوفر نے امید رنگ کے پروں کی پھڑپھڑ اہٹ سنی۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.