ایک لمحے کو دل چاہا کہ پاس بلا کرخوشی کے مارے گلابی ہوتے اس کے رخسار چوم لوں، لیکن میں باز رہا اور مسکراتے ہوئے اس کو اجازت دینے پر ہی اکتفا کیا۔ — Syed Bilal Pasha, تم مٹ نہیں سکتے Copy Share WhatsApp
by Syed Bilal Pasha
Contemporary Fiction · 21 pages
“جبکہ سکندر کے گھر صرف وہ تھا ، جو اردو سے والہانہ محبت رکھتا، اس کے بہن بھائی اور امی ابو سب ہی اردو سے نفرت نہ سہی ، البتہ چڑ ضرور رکھتے تھے۔”
“میں اکثرمحبت کے مارےکہہ اٹھتا : '' آپ اپنے سٹودنٹس کے سامنے تو انگلش بولتے ہیں، لیکن میرے انسسٹ کرنے پر بھی آپ میرے ساتھ انگلش نہیں بولتے۔”
“دادا جان کے ساتھ ہمیں زیادہ وقت نصیب نہیں ہوا، وہ میرے بچپن میں ہی رب کے ہاں چلے گئے تھے۔”
“اس کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آرہی تھی وہ اپنا دین بدلنا چاہتی تھی.”
“ابا کے گھر میں مگن ہوجانے سے اماں کی سوچوں کا ارتکاز بھی ٹوٹ گیا تھا اور یہ بدلاو¿ اس میں تبدیلیاں لانے لگا۔”
“دنیا والے تمھیں غصے کا تیز کہتے ہیں پر میں جانتی ہوں تمھارا دل بہت اچھا ہے۔”
“کبھی کبھار دیوہیکل سایہ میرے دل کے وال بند کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی میری آنکھوں کے ڈیم سے بچایا ہوا پانی بھی کھینچ لیتا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.