دادا جان کے ساتھ ہمیں زیادہ وقت نصیب نہیں ہوا، وہ میرے بچپن میں ہی رب کے ہاں چلے گئے تھے۔ — Syed Bilal Pasha, تم مٹ نہیں سکتے Copy Share WhatsApp
by Syed Bilal Pasha
Contemporary Fiction · 21 pages
“جبکہ سکندر کے گھر صرف وہ تھا ، جو اردو سے والہانہ محبت رکھتا، اس کے بہن بھائی اور امی ابو سب ہی اردو سے نفرت نہ سہی ، البتہ چڑ ضرور رکھتے تھے۔”
“میں اکثرمحبت کے مارےکہہ اٹھتا : '' آپ اپنے سٹودنٹس کے سامنے تو انگلش بولتے ہیں، لیکن میرے انسسٹ کرنے پر بھی آپ میرے ساتھ انگلش نہیں بولتے۔”
“ویسے یہ دادی کی رفاقت اور ان کے ساتھ بول چال کا اثر تھا کہ مجھ جیساآٹھ سال کا شہری بچہ، دہلیز جیسے الفاظ بے تکلف اپنے جملوں میں استعمال کرتا ۔”
“اللہ پاک نے اس دنیا میں ہر انسان کو الگ طرح کی زندگی دی ہے، سب کو کہیں خوشیاں کہیں غم دیا ہے۔”
“خاموشی کے لیپ نے زخموں کو ایسا بھرا تھا کہ اس میں سے خون رس رس کر اس کی روح میں شامل ہو کر اس کو گھا ئل کررہا تھا۔”
“پر کچھ خاص بات ضرور ہے کہ اللہ نے مجھے اتنی توفیق دی ہے کے اُسکے محبوب ﷺ کا نام لے سکوں اُنکا ﷺ ذکر کر سکوں یا اُنسے محبت کر سکوں۔۔”
“آج پِھر شاہ زیب کو وقت کی لہروں میں بہہ جانے والی گم گشتہ قربانیوں کی داستان یاد کروا کر اس ملک میں ہی نوکری تلاش کرنے کا درس دیا جا رہا تھا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.