ویسے یہ دادی کی رفاقت اور ان کے ساتھ بول چال کا اثر تھا کہ مجھ جیساآٹھ سال کا شہری بچہ، دہلیز جیسے الفاظ بے تکلف اپنے جملوں میں استعمال کرتا ۔ — Syed Bilal Pasha, تم مٹ نہیں سکتے Copy Share WhatsApp
by Syed Bilal Pasha
Contemporary Fiction · 21 pages
“ایک لمحے کو دل چاہا کہ پاس بلا کرخوشی کے مارے گلابی ہوتے اس کے رخسار چوم لوں، لیکن میں باز رہا اور مسکراتے ہوئے اس کو اجازت دینے پر ہی اکتفا کیا۔”
“چمنی سےاٹھتا رقص کرتا دھواں، اور اس دھویں میں سے چھن کر آتی چاند کی روشنی، کیا سماں ہوتا تھا۔”
“دادا جان کے ساتھ ہمیں زیادہ وقت نصیب نہیں ہوا، وہ میرے بچپن میں ہی رب کے ہاں چلے گئے تھے۔”
“زندگی کا کیا بھروسہ کہ صبح تک کیا سے کیا ہو جائے؟''ہم دونوں نے ایک قہقہ لگایا اور سیٹھ مجیب کیبن سے باہر چلا گیا۔”
“اپنے اعتبار سے اوپن، سٹریٹ فارورڈ، شوشل، خوش رہنے، خوش رکھنا چاہنے اور دوست بنانے والا انسان ہوں۔”
“ایک تو شمالی علاقہ جات کی ساری وادیاں انتہائی حسین اوپر سے ہر وادی کا ذاتی پالتو دریا ان وادیوں کے حسن کو چار چاند تو لگا ہی دیتا ہے ساتھ میں سیّاحوں کی بھی چاندی ہو جاتی ہے ۔”
“کچھ دوست شکوہ کرتے ہیں کہ میں سوچتا بہت ہوں لیکن میں اُن سے یہی کہہ کر معذرت کرلیتا ہوں کہ یہ میرے اختیار میں نہیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.