اگر پانی اور گولی ، دونوں سے بچ گئے اور یونان کے کسی سرحدی قصبے میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو آگے پھر کنٹینر یا چھوٹی گاڑیوں میں بیٹھا کر اوپر سامان لوڈ کر دیا جاتا تھا۔ — Muhammad Abubakar, ضدی مسافر - مشن امریکہ پر قبضہ - Thriller Story Book Copy Share WhatsApp
by Muhammad Abubakar
Fiction · 75 pages
“خوش قسمتی سے جو لوگ بچ جاتے، وہ ترکی پہنچ کربند کنٹینروں کے ذریعے اگلے بارڈر پر پہنچائے جاتے ۔”
“دونوں ملکوں کی فوجوں میں سے کسی کی نظر میں آئے تو گولیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔”
“بارڈر پر ایجنٹوں کے کارندے ان کی جامع تلاشی لیتے اور کاغذ نام کی ایک بھی چیز ان کے پاس نہیں رہنے دیتے۔”
“پس ہمارے سانس لینے کا بنیادی مقصد اسی آکسیجن نامی گیس کو جسم کے اندر لے جانا ہوتا ہے تا کہ جسمانی خلیات بہتر انداز میں کام کر سکیں۔”
“زندگی کا تیز بہاؤ اِس قدر اُلجھاتا ہے کہ جیسے وہ کردار ہماری زندگی میں کبھی نہیں تھا. کامیاب لوگ وہی ہوتے ہیں جو حال میں جینا سیکھ لیتے ہیں.”
“سمیر نے گھر میں سب کو بتایا تو سب بہت خوش ہوئے کے سمیر کامیابی کی طرف ہے۔”
“مسلماں کو وفا سے حاصلِ ایماں بھی کہتے ہیں مگر غیرت نہ جانے کیا ہوئی اہلِ قیادت کی وطن کو لوٹتے بھی ہیں،، وطن کو ماں بھی کہتے ہیں ۔۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.