پسِ نوشت : ۱۹۹۵ء میں ٹاڈا قانون ختم ہونے کے بعد وزیرِ اعظم شری نر سمہا راؤ نے اظہارِ خوشی میں پرائم منسٹر ہاؤس ، دلی میں اخباروں کے مدیروں کو ڈنر دیا۔ — Asrar Jamyee, Tanz Paray/طنز پارے - Sarcastic Poetry Copy Share WhatsApp
by Asrar Jamyee
Poetry · 210 pages
“کتّے کی وفاداری کی اتنی صاف ، واضح اور سچی تصویر انسان کی فطرتِ وفاداری کو جھنجھوڑنے کے لئے بالکل تیر بہدف ہے۔”
“آپ وزیرِ داخلہ ہیں، پولیس فورس کی کشتی کے نا کدا، قانون اور نظم کے آقائے نامدار، میں ایک مظلوم اُردو شاعر ہوں، ایک فریادی بن کر آیا ہوں آپ کو میری فریاد سُننی پڑے گی!”
“فیؔض یقیناً فکر و فن کے اعتبار سے بڑے شاعر ہیں اور اردو شاعری میں ان کا ایک محترم مقام ہے۔”
"جناب اسرؔار جامعی نہایت پْر آشوب دورمیں سراپا آشوب ہیں، پیرائیہ اظہار ہے طنزومزاح، وہ بھی شعر میں ، صورت سے نہایت مسکین اور اپنے اشعار میں نہایت جری، جہاں کہیں ناہمواری، ظلم زیادتی، بے رحمی اور بے…
“جس کی وجہ سے آج، ان کے گزر جانے کے بعد بھی لوگ انھیں عزت سے یاد کرتے ہیں۔”
“اب کچھ لوگ جو قرآن کا علم رکھتے ہیں وہ تو یہ بات سمجھ جاتے ہیں لیکن جنھوں نے بس قرآن کو پڑھا ہوتا ہے انھیں سمجھانا نا ممکن سا ہو جاتا ہے۔”
“اپنے رب کی تخلیق کو کیسے الزام دے سکتے ہیں، وہ بھی صرف لوگوں کے ڈر سے؟ اگر ڈرنا ہے تو اس رب سے ڈریں جس کی نعمت کی آپ نے ناشکری کی۔”
“نطفہ اس چھوٹی سی چیز کو کہتے ہیں جو مرد اور عورت کے ملنے کے بعد عورت کے اندر بنتا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.