جہاں دن کے وقت قدرتی روشنی پورے کمپلیکس کو منور کر دیتی ہے، وہیں رات کے وقت جا بجا نصب لائٹ فکسچرز سے حیدر علی کلچرل سینٹر جگمگا اٹھتا ہے۔ — Numra Noor us Samad, Shehr Kinaray / شہر کنارے - Baku Travelogue Book Copy Share WhatsApp
by Numra Noor us Samad
Travelogue · 132 pages
“اگر فلائٹ پکڑنے میں زیادہ وقت باقی ہو تو ہوٹل انتظامیہ ایک یا دو گھنٹے کا اضافی وقت عنایت کر دیتی ہے، لیکن اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی انتظامیہ کو بروقت اطلاع دینی ہوتی ہے۔”
“ویسے سیل سے شاپنگ میں کامیابی کے بعد جو دلی سکون اور مسرت کا احساس ہوتا ہے، اِسے لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے۔”
“ایئر پورٹ روانگی کا وقت ہو چلا تھا، سو وقت ضائع کیے بغیر سامنے موجود ٹیکسی ڈرائیورز سے ایئرپورٹ ڈراپ کی درخواست کی۔”
نمرہ نورالصمد کراچی کی رہائشی ہیں اور ان کی پہلی کتاب "شہر کنارے" درحقیقت ان کے سفر کی روداد ہے۔ اِنھوں نے اپنے تحریری سفر کا آغاز بلاگز کے ذریعے کیا لیکن ان کے نزدیک لکھنے سے زیادہ دلچسپ کام کتابی…
“اس کٹیا سے ھر شام اٹھتی دھویں کی لکیر کو میں نے زندگی کا استعارہ کب سمجھنا شروع کیا، شاید مجھے خود صحیح اندازہ نہیں ہے۔”
“جاویدکو ڈر لگنے لگا کہ کہیں اماں بھی قمرالنساء والی بات نہ کر دیں۔”
“والدین سے ملی وراثت کہہ لیں یا پھر خود کی شخصیت میں اِک چُھپا جنون کہ انھوں نے صرف خود کو یا تو خطاطی، مصوری یا پھر اپنی عمر سے بڑے درجے کی کتابیں پڑھنے کی کوشش میں پایا۔”
“چھ سال کی زرمینہ آنکھیں ملتی ہوئی ُاٹھی اور بستر سے ُاتر کے سیدھا باپ کے پاس آئی اور باپ کے دائیں کندھے سے لپٹ گئی۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.