کچھ عرصہ قبل جب وہ محض شیدا ہوا کرتاتھا تو شغلِ لطیف لڑکیوں کو ان کے گھروں سے کالج تک اورپھر کالج سے بحفاظت گھروں تک چھوڑ آنا ہوتاتھا۔
— Irfan Mehmud, احمق پارے / Ahmaq Paray - Urdu Comedy Book
““بیگ صاحب نے سوچا، ”یہ ماہرینِ نفسیات بھی یونہی اپنی اہمیت جتانے کے لیے کچھ بھی چھوڑ دیتے ہیں، بھلا انٹر نیٹ جیسی تفریحی اور سماجی رابطے فراہم کرنے والی چیز کس طرح ڈپریشن پیداکرسکتی ہے!”

“بھلا کوئی اُس شخص کے بارے میں ایسی رائے کیسے رکھ سکتا تھا جس کے دن کا آغاذ ہی ٹوٹے دلوں کا دکھ بانٹنے سے ہوتا تھا۔”

“اگر ماں زندہ ہوتی تو آصفہ بانو ان سے لڑائی کرتی کہ امی میں نہیں جاؤں گی کہیں آپ کو اور ابا جی کو چھوڑ کر۔”
