ٹھاٹھیں مارتی لہریں، روشنیاں، دور سے آتی موسیقی کی آواز اور چاند کی تیکھی روشنی، یہ ایک دلفریب منظر تھا۔ — Maira Anwaar Rajpoot, پیار کا تیسرا شہر / Pyar ka teesra Shehr - An Intense Love Story Copy Share WhatsApp
by Maira Anwaar Rajpoot
Romance · 127 pages
“’’یہاں مختلف سرگرمیاں بھی کروائی جاتی ہیں، یہاں سیاح تھائی طرز کے روایتی گھروں کے علاوہ کھیل اور فنون لطیفہ سے لطف اندوز ہونے بھی آتے ہیں۔”
“”پیار کا تیسرا شہر“ پڑھتے ہوئے شاید بہت سے لوگوں کو کرداروں کے الجھے رہنے سے گلہ ہوگا، مگر یہ سچ ہے کہ دکھوں، نوحوں اور ناانصافیوں کو لفظوں میں ڈھال کر۔۔”
“اندر جاتے ہی اسے احساس ہوا کے دلفریب خوشی میں وہ الوداعی رسمیں نبھانا بھول گئی ہے۔”
میرے تعارف میں لکھنے کے لیے کچھ بھی ایسا منفرد اور قابلِ ذکر نہیں۔۔۔ میرا بس اتنا ہی تعارف ہے کہ میرا نام مائرہ انوار راجپوت ہے۔ قلم کو مشعل بنا کر اندھیرے بھگانا چاہتی ہوں،قلم تھام کر تلوار گرانا …
“جاویدکو ڈر لگنے لگا کہ کہیں اماں بھی قمرالنساء والی بات نہ کر دیں۔”
“گھر والوں کو شدت سے احساس دلانے کی کوشش کرے کہ وہ جسم بے شک کوئی اور رکھتا /رکھتی ہے مگر روح سے مخالف جنس کی ہے۔”
“چمنی سےاٹھتا رقص کرتا دھواں، اور اس دھویں میں سے چھن کر آتی چاند کی روشنی، کیا سماں ہوتا تھا۔”
“جو انسان زندگی میں خود آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنےکام کو وقت پر انجام دیتا ہے وہی دولت کا حقدار ٹھہرتا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.