دن گزرتے گئے اور سمیر جب بھی فری ہوتا گھر میں تو گاتا رہتا تھا اب یہ بات عمر احتشام کو بھی پتہ تھی دن بدن سمیر کی سنگیت میں بہتری آ رہی تھی۔ — Moneeb Mazhar, زندگی / Zindagi - Novel About Loneliness and True Love Copy Share WhatsApp
by Moneeb Mazhar
Popular Fiction · 65 pages
“اب عالیہ اسلام آباد کی خوبصورتی دیکھ کے بہت خوش ہوئی اب ان دونوں کی کوشش تھی کے لوگ ان کو کم ہی پہچانیں کہ زیادہ مسئلہ نہ ہو۔”
“اب اسلام آباد میں سمیر کو بے سکونی ہونے لگی بار بار وہی حادثہ والا دن یاد آنے لگتا اور جب بھی سوتا تو اچانک ڈر کر اٹھ جاتا۔”
“احتشام: ارے بھائی مبارک ہو تو پاکستان میں چھا گیا ہے سب بہت خوش ہیں اور دعا کر رہے ہیں تیری کامیابی کے لیے۔”
I have a master's degree in pcs . کبھی کبھی دل کرتا ہے کچھ ایسا لکھا جائے جس سے دل کو سکون آ جائے
“اسی طرح ، میں نے پوری دنیا میں امن ، محبت اور عاجزی کا پیغام دینے کے لیے شاعری کو بطور میڈیم استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔”
“جب "لگتا نہیں دِل میرا" کی کالر ٹیون سماعت تک پہنچی تو اُسے میاں کی بےسری آواز میں محمد رفیع کی مشہور غزل یاد آئی۔”
“شاعری کرنے کا اُن کا مقصد شاعرانہ ربط کے ذریعے پوری کائنات کے درمیان توازن تلاش کرنا ہے۔”
“اُففف، اس شعر میں جذبات کی سیج پر زندگی کے عمرانی رویوں کے ارتقا کوکس قدر خوبصورتی سے الفاظ کاپیرہن دیا گیا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.