سندھی شاعر’سچل سرمست‘ کی وہ چھوٹی سی نظم جس کا اردو ترجمہ شیخ ایاز نے کیا ہے۔
— Muneera Qureshi, Lamhe Ne Kaha / لمحے نے کہا
“شروع میں تو شعریت تقریباً ہر تخلیقی اظہار میں استعمال کی جاتی رہی، جب نثر اور شاعری ایک دوسرے میں گندھے ہوئے رہے۔”

“نثر کی محفل میں ان کی شرکت یقینی ہوتی ہے تاہم مشاعرے میں غزل یا مزاحیہ نظم سنانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔”
