زندگی کا یہ رنگ بھی اچھا ہے تنہائی کا احساس دن کو بھی دامن تھامے ہےاور رات تو کبھی کی تنہا ہے۔ — طُرشہ شبیر احمد, گلستانِ طُرشہ / Gulistan e Tursha Copy Share WhatsApp
by طُرشہ شبیر احمد
Poetry · 139 pages
“اس وقت تو پڑھ رہے ہو گے، امتحاں کی تیاری کر رہے ہو یا تفریح ہو رہی ہے؟ میری دعا ہے کہ تم سارا وقت پڑھتے رہو۔”
“ڈھیر سی دعاؤں کے ساتھ یہ شب بھی رخصت طلب ہے پر اس شبِ ہجراں کی مانند جو تنہائی اور درد کے لمحے بن گئی ہے۔”
“میری دعا ہے خدا کرے تم ہمیشہ کامیاب رہو اور سچی خوشی سے تمہارا دامن بھرا رہے، آمین۔”
مجھے ہمیرا شبیر کہتے ہیں۔ میرا نام طرشّہ شبیر میرے والد نے رکھا تھا۔ میں ۶ فروری۱۹۴۱ء کو ہندوستان کے شہر لکھنو میں پیدا ہوئی۔ مجھے پڑھنے لکھنے کا بچپن سے ہی شوق تھا، میرے گھر کا ماحول بھی پڑھنے لکھ…
“گو کہ ایک باپ کے لیے اپنے اکلوتے بیٹے کی جدائی سوہان روح تھی مگر ایک دیانتدار بادشاہ کے لیے یہ کٹھن فیصلہ کرنا ضروری تھا۔”
“مگر ایک وہ انسان بہت خوش قسمت ہے جس کی غیر موجودگی میں لوگ اسکی عزت کریں اور دوسرا وہ جس کے جانے کے بعد اسکی یاد میں تنہائی میں آنسو بہائے جائیں اور سوچا جائے کہ اتنی جلدی۔۔”
“نکاح کا پتہ ماں باپ اور بہن بھائیوں کو چلا تو سارے خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔”
“ایسی ہی کیفیت میں وہ دن بھر لوگوں میں رہ كے بھی تنہا رہتا ہے، اور پِھر خود ہی حیرت سے پوچھتا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.