ڈھیر سی دعاؤں کے ساتھ یہ شب بھی رخصت طلب ہے پر اس شبِ ہجراں کی مانند جو تنہائی اور درد کے لمحے بن گئی ہے۔
— طُرشہ شبیر احمد, گلستانِ طُرشہ / Gulistan e Tursha
“آج صبح پھر جب روزی کمانے کے لے راستہ ناپنے نکلی تو نظر ہوا میں جھولتے پھول پہ پڑی جو اپنا بہترین رنگ اور تازگی لیے پودے کی شاخ کا اکیلا مالک بنا بیٹھا۔”

“اگر ماں زندہ ہوتی تو آصفہ بانو ان سے لڑائی کرتی کہ امی میں نہیں جاؤں گی کہیں آپ کو اور ابا جی کو چھوڑ کر۔”
