کسی نظارہ کرتی متفکر آنکھ کے لیئے”دُم دار ستارہ“بن جاؤ!(دُمدار ستارے کی جو بھی توضیح ہو)وہ لمحے بھر کے لیئے وارفتگی، استعجاب، اُمید اور مسکراہٹ کا باعث بنتا ہے اوردنیا خوبصورت لگنے لگتی ہے۔
— Muneera Qureshi, ِاِک پرِ خیال / Ik Par e Khyal- Reflective Poetry Book About Life
“ان کی تحاریر پُر اثر ہونے کے ساتھ ساتھ مزاح سے بھرپور ہوتی ہیں اور قاری کو کبھی بور نہیں ہونے دیتیں۔”

“”جہیز میں کیا ماں کو لے کر جاؤ گی؟“سعیدہ بیگم کا اگلا جملہ ادا ہونے سے پہلے ماشاء نے ان کا جملہ(روایتی جملہ)دہرایا، یہ کہہ کر ماشاء مسکرانے لگی۔”
