بھلا کوئی اُس شخص کے بارے میں ایسی رائے کیسے رکھ سکتا تھا جس کے دن کا آغاذ ہی ٹوٹے دلوں کا دکھ بانٹنے سے ہوتا تھا۔
— Rawish Ali Tirmizy, گول روٹی / Gol Roti- Feminist Book
“میں اِن سے دور ہوں جس کی وجہ سے یہ میری زیادہ عزت کرتے ہیں اور اسی لیے حیدر، ہادی، زونی، عنایہ، عادل سب مجھے بڑےپاپا سمجھتے ہیں۔”

“گھر کی کوئی بھی لڑکی اس سے دوستی کرنا پسند نہیں کرتی تھی تو اس نے بھی اپنا زیادہ وقت امی اور دادی جان کے ساتھ صرف کرنا بہتر سمجھا۔”

“نیک برخوردار کے نامزدہ جنگل کے قریب پہنچ ہی گیا تھا کے من میں دن بھر کے واقعات پر ذہنی تبصرہ کرنے لگا- صبح، دوپہر، شام، سب ایک ہی کھچڑی میں مل گئے- 'یہ بھی چھوڑو یار!”

“ناہید باجی کا دل پھر ٹوٹ گیا لیکن انھوں نے ثابت قدمی سے اسکول میں ملازمت جاری رکھتے ہوئے امی کے ساتھ گھر کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا۔”
