اس کتاب میں آپ کو ہر رنگ کے کردار سے واقفیت ہوگی جیسےبے تحاشہ محبت اورقربانیاں دینے والے لوگوں سے لے کر اپنی اولاد کو زمانے کی ٹھوکروں پر چھوڑنے والے۔ — Umm e Bobi, دنیا کے رنگ - Duniya Kay Rung Copy Share WhatsApp
by Umm e Bobi
Non-Fiction · 101 pages
“موسلا دھار بارش ہو رہی تھی ہوا کے زور سے ٹوٹتے گرتے بڑے بڑے درخت دل دہلا رہے تھے۔”
“ایک بات جو مذاق میں شروع ہوئی تھی اتنی بڑھی کہ آج برسوں بعد بھی دلوں کی کدورت نہیں گئی۔”
مصنفہ امِ بوبی امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ آرٹس اور پینٹنگز کے ساتھ ساتھ کتب بینی میں بھی بےحد دل چسپی رکھتی ہیں۔ کتب بینی کا شوق انھیں ورثے میں ملا ہے اور بچپن سے ہی کتابیں پڑھتی آ رہی ہیں۔ اپنی زن…
“اگر ماں زندہ ہوتی تو آصفہ بانو ان سے لڑائی کرتی کہ امی میں نہیں جاؤں گی کہیں آپ کو اور ابا جی کو چھوڑ کر۔”
“بھید تو مجھ جیسے بہت سے جان لیتے ہیں پر کوئلے کی کالک کھرچتے کھرچتے ناخن ٹوٹ جاتے ہیں۔”
““بیگ صاحب نے سوچا، ”یہ ماہرینِ نفسیات بھی یونہی اپنی اہمیت جتانے کے لیے کچھ بھی چھوڑ دیتے ہیں، بھلا انٹر نیٹ جیسی تفریحی اور سماجی رابطے فراہم کرنے والی چیز کس طرح ڈپریشن پیداکرسکتی ہے!”
“زندگی کا یہ رنگ بھی اچھا ہے تنہائی کا احساس دن کو بھی دامن تھامے ہےاور رات تو کبھی کی تنہا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.