ماشاء یہ جملہ کہہ کر، مسکرا کر ماں کے جواب کا انتظار کر رہی تھی لیکن سعیدہ بیگم نےایک گہری سانس لی اور کمرے سے نکل گئی۔ — Syeda Neha Rizvi, طمانچہ - Tamancha Copy Share WhatsApp
by Syeda Neha Rizvi
Romance · 486 pages
“”جھوٹے!کب بلایا تھا ماما نے مجھے؟“ماشاء جو اِس وقت صوفے پر بیٹھ رہی تھی رک کر اسے دیکھنے لگی اور پھر نوریح کو دیکھ کر طنزیہ مسکرائی۔”
“یاد کاتازہ ہونا تھا کہ فاریا کے چہرے پر اچانک سے ایک دلکش مسکراہٹ نمودار ہوگئی تھی۔”
“”جہیز میں کیا ماں کو لے کر جاؤ گی؟“سعیدہ بیگم کا اگلا جملہ ادا ہونے سے پہلے ماشاء نے ان کا جملہ(روایتی جملہ)دہرایا، یہ کہہ کر ماشاء مسکرانے لگی۔”
Neha Rizvi writes mystery and historical romance featuring hidden histories, dazzling multi-culture communities, and strong sisterhoods. She promises to pull heart strings, offer a few laughs, and …
“غزل کی فکری آزادی اور مذہبی دنیاداروں سے نوک جھونک اور لطف ومذاق کا سلسلہ سوداؔ کے ہاں بھی موجود ہے۔”
“”?What are friends for“ہانیہ دل سے مسکراتے ہوئے وہ اس کے گلے لگ گئی۔”
“"صرف پانچ ملاقاتوں کی بُنیاد پر تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ ہم ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں؟"میں مُسرت کے ساتھ اندر ہی اندر مسکرایا۔”
““وہ زیرِ لب مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں، ”ایسے ہی الفاظ بولنے والوں سے یہ اندرونِ قُرصِ ارض بھرا پڑا ہے، یہ سب ہی بڑے مصروف لوگ تھے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.