بھید تو مجھ جیسے بہت سے جان لیتے ہیں پر کوئلے کی کالک کھرچتے کھرچتے ناخن ٹوٹ جاتے ہیں۔
— Shoaib Arif, ارتقاء کا مسافر - Irtiqa Ka Musafir
“صبر ؟ کیا یہ فقرہ کافی ہے کسی کے ٹوٹے دل کو جوڑنے کے لیے ، بکھری روح کو سمیٹنے کے لیے ؟ اور پھر اِس بات کا جواب ملتا ہے کہ وقت سب بھر دیتا ہے ۔”

“انعامات کا لفظ سننا تھا کہ میاں نے فرحان اور اس کے ابو کو اکیلا چھوڑا اور منڈیر پر کھڑے ہو کر فہرست سننے لگے۔”
