لبوں پہ ہر چہرے کو روشن کر دے ایسی مسکراہٹ سجا کے ، آنکھوں میں قد کاٹھ ، شہرت ، امارت اور صورت دیکھے بغیر عقیدت اور عزت بسا کے اور دل میں محبت کے جذبے کو محترم بنا کے۔
— Zarish Iqbal, سیاہی - Siyahi
“بے ذوق بھی اس طرح سے کہ خود ہی خود کے ہاتھوں لکھے جانے کا بے ذوق سفر ، وہی جو سب کاٹ لیا ہے اُسی کو لفظوں میں پِرونا ہے اُنڈیلنا ہے ایک کتاب میں ۔”

“والدین سے ملی وراثت کہہ لیں یا پھر خود کی شخصیت میں اِک چُھپا جنون کہ انھوں نے صرف خود کو یا تو خطاطی، مصوری یا پھر اپنی عمر سے بڑے درجے کی کتابیں پڑھنے کی کوشش میں پایا۔”

“”جہیز میں کیا ماں کو لے کر جاؤ گی؟“سعیدہ بیگم کا اگلا جملہ ادا ہونے سے پہلے ماشاء نے ان کا جملہ(روایتی جملہ)دہرایا، یہ کہہ کر ماشاء مسکرانے لگی۔”

“’’یہاں مختلف سرگرمیاں بھی کروائی جاتی ہیں، یہاں سیاح تھائی طرز کے روایتی گھروں کے علاوہ کھیل اور فنون لطیفہ سے لطف اندوز ہونے بھی آتے ہیں۔”
