سامنے صوفے پہ دلہا دلہن بیٹھے تھے ہنستے مسکراتے، باتیں کرتے وہ دلہن کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا دیکھتا رہا دیکھتا رہا۔
— Zahra Nauman, قصہ بابا بِگو - Qissa Baba Bigu - karbala book
“مسکراتے ہوئے ماہِ نو نے آنکھیں بند کر لیں جس پر ہماء نے اسے دوبارہ ہلایا اور یقین دلایا کہ یہ کوئی خواب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔”

“کبریٰ کی ماں کپڑے کی کان نکال لیتیں‘ کلف توڑتیں، کبھی تکون بناتیں کبھی چوکھونٹا کرتیں اور دل ہی دل میں قینچی چلا کر انکھیوں سے ناپ تول کر مسکرا پڑتیں۔”
