جانے لڑکی کی زندگی کے یہ پل کتنے حسین ہوتے ہوں گے، مسکراہٹ آنکھوں پر اور شرم ہونٹوں پر جچتی ہوگی حالانکہ یہ تو تضاد ہوا، اصول وضوابط سے۔
— Muneeb Masoud, ادب و تنقید - Adab o Tanqeed
“سامنے صوفے پہ دلہا دلہن بیٹھے تھے ہنستے مسکراتے، باتیں کرتے وہ دلہن کے سامنے جا کر کھڑا ہوگیا دیکھتا رہا دیکھتا رہا۔”

“عمران نے اس کی بات پر مسکراتے ہوئے اسٹورروم کے دروازے پر دباؤ ڈالا اور دروازہ کھول کر ڈرائنگ روم میں داخل ہوگیا۔”
