زمین گدلی، نرم اور گیلی، گلگلے بادلوں کے بیچ سے کہیں کہیں سورج چاچو منہ ڈال کر مسکرا رہے تھے لیکن سردی سے جمتی ہوئی انگلیوں کا کچھ نہیں کر پائے۔
— Sana Sadiq, حکایت از سرزمین آتش و عشق - Hakayat Az Sarzameen e Atish o Ishq
“اب وہ سوچ رہا تھا کہ آپا کو سچ میں اس سے کتنی محبت ہے،کہ اس کے لیے دیر تک کالج کے گیٹ پر کھڑی رہیں اور اس کے نظروں سے اوجھل ہو جانے تک مسکرا کر الوداع کہتی رہیں۔”

“ایک لمحے کو دل چاہا کہ پاس بلا کرخوشی کے مارے گلابی ہوتے اس کے رخسار چوم لوں، لیکن میں باز رہا اور مسکراتے ہوئے اس کو اجازت دینے پر ہی اکتفا کیا۔”
