سمندر میں موجیں مچلتی رہیں
میں کاغذ کی کشتی بناتا رہا
وہی لوگ میرے گلے پڑ گئے
جنہیں میں گلے سے لگاتا رہا
نہ جانے تھا کس کس کے حصّے کا بوجھ
میں اپنا سمجھ کر اٹھاتا رہا
پرندوں سے پوچھوں گا وہ کون تھا
جو پیڑوں کو پانی لگاتا رہا
میں کاغذ کی کشتی بناتا رہا
وہی لوگ میرے گلے پڑ گئے
جنہیں میں گلے سے لگاتا رہا
نہ جانے تھا کس کس کے حصّے کا بوجھ
میں اپنا سمجھ کر اٹھاتا رہا
پرندوں سے پوچھوں گا وہ کون تھا
جو پیڑوں کو پانی لگاتا رہا