اماں کا بس ایک ہی بھائی تھا مگر گھر کے بکھیڑوں میں الجھی اماں خوشی غمی کے موقع پر ہی اس سے ملتی تھی اور ادھر سے بھی ایسی کوئی چاہ نہ تھی ۔ — Farheen Naz Tariq, Roshni K Deep - Tragic Stories Book in Urdu Copy Share WhatsApp
by Farheen Naz Tariq
Tragedy · 100 pages
“میں تو اب تک درد سے آنکھیں میچے اماں کے کندھے سے چپکا رو رہا تھا - ہماری گلی میں تقریباََ سبھی گھر ہمارے قرابت داروں کے تھے۔”
“اماں نے وہاں سے جانے کا قصد کیا تو مامی اسے سمجھانے بیٹھ گئیں اور ایسی ایسی دلیلیں دی کہ اماں ابا کو قائل کر کے ہی چھوڑا۔”
“ابا کے گھر میں مگن ہوجانے سے اماں کی سوچوں کا ارتکاز بھی ٹوٹ گیا تھا اور یہ بدلاو¿ اس میں تبدیلیاں لانے لگا۔”
Iam a digest writer. Reading and writing stories is my passion. My novels and short stories have been published in several digests such as, Urdu digest, Naye ufaq digest, Saima digest, Sama newspap…
“اس رات میں واقعی یہ سمجھی تھی کہ اب سب بدل گیا ہے، ماموں کو ابا نے بھیجا ہے اور ابا مجھے شادی ہال میں بلا رہے ہیں۔”
“بونا اور لال پری ہر دم خوش رہتے اور زیادہ وقت تہہ خانے میں ہی گزارتے۔”
“اُس کی کُشادہ پیشانی پر کامیابی کی لکیروں کا ایک جال سا بُنا ہوا تھا جسے وہ آنکھیں مِیچ کر مزید نمایاں کرنے کی جستجو میں لگا رہتا۔”
“اگر انھیں پتہ لگ جاتا کہ کچھ دیر پہلے وہ ان کے مخالف کے بارے میں کتنی خوشی خوشی سے قصیدے پڑھ رہے تھے تو وہ کیا سوچتے!”
Enter your account email and we'll send you a reset link.