Musafir aur Manzile'n / مسافر اور منزلیں - Urdu travelogue book 0 Reviews

By: Akash Khan

No Ratings Yet

Hardcopy Price

PK Flag
PKR 1200
USD Flag
USD 20

E-book Price

PK Flag
PKR 600
USD Flag
USD 10

Step into a journey of wonder and discovery with Musafir aur Manzile'n / مسافر اور منزلیں by Akash Khan, a captivating Urdu travelogue book. From the rain-soaked streets of London to the snow-covered peaks of Switzerland, this book offers more than travel stories. It blends Urdu travel stories with thoughtful life and travel reflections, capturing moments of surprise, laughter, and quiet observation along every path.

Meet the amusing quirks of relatives, the small mistakes of an engineer exploring new lands, and the search for the finest local food. The landscapes, cultural encounters, and roads of Europe are described with care, inviting readers to pause, reflect, and immerse themselves in the journey.

Ideal for those who enjoy travel stories from Europe or want to experience life through another perspective, Musafir aur Manzile'n is a thoughtful Urdu travelogue book that celebrates exploration, human moments, and the paths we take, page by page.

ISBN (Digital) 978-627-526-027-1
ISBN (Hard copy) 978-627-526-026-4
Total Pages 1000
Language Urdu
Estimated Reading Time 2 hours
Genre Travelogue
Published By Daastan
Published On 15 Dec 2025
No videos available
Akash Khan

Akash Khan

میں کوئی پیشے سے رائٹر نہیں ہوں نہ ہی مجھے اس فیلڈ میں کوئی تجربہ ہے۔ یہ سفرنامہ میں نے اپنی خوشی اور اپنی خوبصورت یادوں کو ایک کتاب کی شکل دینے کے لیے تحریر کیا ہے۔
میں پنجاب کے ضلع اٹک کے ایک چھوٹے سے شہر حسن ابدال میں پیدا ہوا۔ میرا تعلق حسن ابدال کے ایک نامی خاندان سے ہے۔ میں نے بچپن میں ہر طرح کا لاڈ اور پیار دیکھا لیکن میں ایک بہت ہی حساس طبیعت والا بچہ تھا۔ اپنی عمر سے تھوڑا زیادہ میچور تھا۔

میں نے مارگلہ گرامر اسکول سے میٹرک کیا۔ میں پڑھائی میں کچھ خاص اچھا نہیں تھا اور مشکل سے ہی پاس ہوتا تھا لیکن میں محنت بہت کرتا تھا۔ بچپن سے ہی میرے ذہن میں ڈال دیا گیا کہ میں ایک نالائق طالبِ علم ہوں۔ اس بات سے کافی حد تک میری خود اعتمادی میں کمی آئی۔ لیکن میرے کچھ اساتذہ نے میری لکھنے کی صلاحیت کو سراہا اور مجھے احساس دلایا کہ میں باقی طلبہ سے کم نہیں۔

میں نے بی ایس سی آنرز لاہور کے ایک مشہور ادارے فارمَن کرسچن کالج سے کی۔ ایف سی کالج جانے سے میرے اندر بہت سی مثبت تبدیلیاں آئیں۔ میں نے وہاں مختلف لوگوں کو دیکھا اور جانا۔ میری خود اعتمادی میں بہت اضافہ ہوا۔ میں یہاں اپنے مرحوم خالو جناب شوکت نذیر اعوان کا ضرور شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے فارمَن کرسچن کالج جانے کے لیے قائل کیا۔

میں پیشے سے ویسے تو ایک بزنس مین ہوں لیکن اس بزنس کو بنانے، بڑھانے اور چلانے میں میرا کوئی ہاتھ نہیں، اصل میں میں ایک مالدار باپ کی خوش نصیب اولاد ہوں۔

خیر، میں ایک احساس کرنے والا شخص ہوں اور اپنے ماں باپ، بیوی، بہن بھائی اور ان کے بچوں سے بہت پیار کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میں زندگی میں بس اتنا کما سکوں کہ اپنے ان رشتوں کی ہر خواہش پوری کر سکوں۔

میں ایک عام آدمی ہوں جس کا یہ سفرنامہ تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پڑھنے والے کو اس وقت میں لے جا سکوں جہاں سے میری بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔

Reviews


Be the first to review it. Start now.

Books in Same Genre