Hardcopy Price
E-book Price
میرا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ عورتوں کو لکھنا چاہیے اور اپنے بارے میں لکھنا چاہیے، یعنی اپنی ذات کو اپنی تحریر میں لانا چاہیے کیونکہ قلم ہی وہ آلہ ہے جس کے ذریعے عورت تاریخ میں خود اپنے آپ کو درج کر سکتی ہے اور اپنے ہونے کا اعلان کر سکتی ہے۔ اقلیم فاطمہ کا زیرِ نظر شعری مجموعہ بھی اِس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ انھوں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا ،اور نہ صرف اظہار کیا بلکہ اسے قرطاس پر اتارا اور اب کتابی صورت میں شائع بھی کر رہی ہیں۔ان کی شاعری روحانیت، عقیدت اور انسانی محبت کا حسین امتزاج ہے۔ انھوں نے عام محبت کے احساسات کو اور عمومی معاشرتی رویوں کو بھی موضوع بنایا ہے اور عورتوں کے جذبات اور احساسات کی گہرائیوں کو چھونے کی کاوش بھی کی ہے۔وہ عورت کو بطور فرد دیکھتی ہیں اور اس کی مشکلات، خواہشات، اور امیدوں کو شعر میں ڈھالتی ہیں۔ یہ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے جس کے بارے میں انھوں نے لکھا ہے کہ یہ ان کا آخری شعری مجموعہ ہے۔ شاعری ایسا جذبہ ہے کہ جو انسان کے اندر موجود ہو تو اسے کسی پل چین نہیں پڑنے دیتا اور شاعری کسی نہ کسی طرح ہوتی ہی رہتی ہے۔میں دعا گو ہوں کہ یہ آخری مجموعہ ثابت نہ ہواور وہ اپنے دل کی آواز پر کان دھرتی رہیں اور اسے سپردقرطاس کر کے مزید سنوارنے اور نکھارنے پر توجہ دیتی رہیں۔اصل بات وہی ہے کہ عورت کا لکھنا اور اپنے جذبوں، اداسیوں اور امنگوں کا اظہارکرنا کئی حوالوں سے بہت ضروری ہے۔
ڈاکٹر عنبرین صلاح الدین
| ISBN (Digital) | 978-627-526-064-6 |
|---|---|
| ISBN (Hard copy) | 978-627-526-063-9 |
| Total Pages | 60 |
| Language | Urdu |
| Estimated Reading Time | 1 hour |
| Genre | Poetry |
| Published By | Daastan |
| Published On | 24 Dec 2025 |