آج پِھر شاہ زیب کو وقت کی لہروں میں بہہ جانے والی گم گشتہ قربانیوں کی داستان یاد کروا کر اس ملک میں ہی نوکری تلاش کرنے کا درس دیا جا رہا تھا۔ — Zainab Taqvi, اصل داستان تم ہو / Asal Daastan Tum Hu Copy Share WhatsApp
by Zainab Taqvi
Fiction · 30 pages
“ایک امید تھی کہ شاید آج مثبت جواب مل جائے، مگر پِھر بھی شاہ زیب کی ناں کو ہاں میں نہیں بدل سکے تھے۔”
“اسے وہ بزرگ یاد آئے تھے اور ان کی پاکستان سے بے انتہا محبت یاد آئی تھی۔”
“چند دہشتگردوں کی وجہ سے یہ ملک چھوڑ دیں؟ میرے لوگ ہزار اختلافات کے بعد بھی مشکل وقت میں متحد ہوتی ہے۔”
“آپی وقت دیکھتے ہوے بولیں "چلو نماز کا وقت ہے میں بھی چلتی ہوں"۔”
“دل پر کیا گزری کب کب کن لمحات میں رانو کی یاد آئی اور کیسے خود کو سنبھالا، کب کب اپنے رب سے فریاد کی۔”
“میں جب سے اسے جانتا ہوں تب سے اسے صرف ایک نرم دل روح پایا ہے، پر ٤ سال پہلے ہسپتال رہنے کے بعد تو وہ مزید جھک گیا ہے۔”
“اِس سب کا آغاز اُس خیال سے ہوتا ہے جو اللہ سبحان و تعالیٰ ہمارے دل میں ڈالتے ہیں تو جو آغاز کرتا ہے اُسی کے نام سے آغاز ہونا بھی چاہیے۔۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.