"تو کیا وہ جو کچھ میرے ساتھ پیش آیا وہ محض خواب تھا؟" شاہ زیب گھر آنے تک خود سے سینکڑوں بار سوال کر چکا تھا۔ — Zainab Taqvi, اصل داستان تم ہو / Asal Daastan Tum Hu Copy Share WhatsApp
by Zainab Taqvi
Fiction · 30 pages
“کوئی بہن کھو کر آیا تھا کسی نے اپنی ماں کو اپنی نظروں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھا تھا، مگر ہر مرنے والے کی داستان کے ساتھ ایک امید کا نام جڑا تھا۔”
“ایک امید تھی کہ شاید آج مثبت جواب مل جائے، مگر پِھر بھی شاہ زیب کی ناں کو ہاں میں نہیں بدل سکے تھے۔”
“آج پِھر شاہ زیب کو وقت کی لہروں میں بہہ جانے والی گم گشتہ قربانیوں کی داستان یاد کروا کر اس ملک میں ہی نوکری تلاش کرنے کا درس دیا جا رہا تھا۔”
“سب کے دلوں میں ایک امید کی کرن تھی کہ انشاءللہ اب پاکستان میں آغاز تبدیلی کا سورج نکلے گا .”
“"مسز عمیر "سکینہ رات مجھے اندازہ ہوا کی تمہاری بیٹی یقیناًکسی مشکل وقت سے گزری ہے۔”
“زمین جب شعلے اُگلتی ہے تو آسمان کا بال بھی بِیکا نہیں کر پاتی مگر جب آسمان بجلیاں گراتا ہے تو زمین کا سینہ چھلنی ہو جاتا ہے۔”
“آگے ہی کچھ قدم کے فاصلے پر، جہاں یہ راستہ ختم ہوتا تھا، دائیں طرف سے ہلکے ہلکے سُنہرے رنگ کی روشنی نُمایاں ہو رہی تھی.”
Enter your account email and we'll send you a reset link.