اسی لمحےشاید میری کشمکش سے با خبر رانو کہیں سے آ گئی تھی کیونکہ پیچھے سے کندھے پر ایک ریشمی ہاتھ کا لمس مجھے احساس دلا رہا تھا کہ رانو مجھے حوصلہ دے رہی ہے۔
— Gul Arbab, فسوں کدہ / Fasoon Kada
“ایک لمحے کو دل چاہا کہ پاس بلا کرخوشی کے مارے گلابی ہوتے اس کے رخسار چوم لوں، لیکن میں باز رہا اور مسکراتے ہوئے اس کو اجازت دینے پر ہی اکتفا کیا۔”

“ارحم اس کو اپنی گزری زندگی کی باتیں بتاتا اور وہ جو ایک عرصے سے بچوں کی آواز کو ترسی ہوئی تھی، بہت دلچسپی سے اس کی باتیں سنتی۔”
