دل ہی دل میں اس منظر کی رنگینیاں میرے جسم و جاں کو گد گدا رہی تھیں، جب میں نے اس کی نازک صراحی دار گردن میں اپنے ہاتھوں سے یہ لاکٹ اور چین پہنانی تھی۔ — Gul Arbab, فسوں کدہ / Fasoon Kada Copy Share WhatsApp
by Gul Arbab
Religious · 48 pages
“ایک سچا سجدہ، کچھ پچھتاوے کے آنسو اور دل سے مانگی ہوئی معافی۔”
“"کیا تمھیں بھی مجھ سے محبت ہے رانو؟" یہ وہ سوال تھا جو میرے دل و دماغ میں اکثر سر اٹھاتا تھا اور میرے واہمے اس سوال کا سر کچل دیتے تھے۔”
“اصراف میرے رب کوپسند نہیں اس لیے میں وہ کام کرتی ہوں جس میں میرا رب خوش ہو اور وہ ہے تحفہ دینا، میرا تو اس بھری دنیا میں سوائے آپ کے کوئی اور ہے ہی نہیں۔”
گل ارباب کا تعلق خیبر پختونخواہ پشاور سے ہے ۔۔ لکھنے کی ابتدا انھوں نے بچوں کی کہانیوں سے کی پھر شاعری کالم نگاری افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں بھی طبع آزمائی کی ۔ کئی ڈائجسٹسس اور ادبی میگزینز م…
“آمنہ خاموشی سے آپی کو سنے جا رہی تھی، جھنجھلاہٹ ختم ہو گئ تھی، سوالوں کا سمندر پر سکون تھا۔”
“ان سب کا اشتعال بجا تھا مگر وہ اپنے نیک دل بادشاہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے اور ان کی خوشی کو خاک میں نہیں ملانا چاہتے تھے۔”
“ان امیرزادوں کے ساتھ تھوڑا گھوم پھر لو بدلے میں خوشی خوشی شاپنگ کرواتے ہیں۔”
“ٹھنڈی ہواؤں اور گہرے کالے بادلوں کے ساتھ وقفے وقفے کی بارش نے نہ صرف موسم خوشگوار کر دیا بلکہ ہر چیز کا مزہ دوبالا کر دیا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.