حیرت ، خوشی،غیر یقینی اور اسی طرح کے کئی اور جذبات سے اپنی ذات کے لامحدود تقسیم شدہ ذرّات کو کسی نا کسی طرح دوبارہ مجسم کرتے ہوۓ اس کے لبوں سے محض یہی نکل سکا۔
— Fiza Baloch, Rah-e-Wasl (راہِ وصل) - Spiritual Novel in Urdu
“" کیا وہ سب سچ میں میرا خواب تھا؟" وہ اسی شش و پنج میں تھا جب اچانک اس کی نظر اپنے ہاتھ میں بندھی سنہری ڈوری پر پڑی، تو وہ چونک گیا۔”

“کوئی بہن کھو کر آیا تھا کسی نے اپنی ماں کو اپنی نظروں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھا تھا، مگر ہر مرنے والے کی داستان کے ساتھ ایک امید کا نام جڑا تھا۔”
