جلال نے تانے بانوں کو جوڑنا شروع کیا کہ جہاں عام انسانوں کے لیے جنگل ختم ہوتا تھا، وہاں ایک نئی دنیا آباد ہے۔
— Afraz Jabeen, وادئ نیلا / Waadi e Neela - Fantasy Fiction Book in Urdu
“پورا گھر ڈرا سہما ایک دوسرے کو ایسے تک رہا تھا جیسے ابھی کوئی اس ننھی سی جان کو جسے ماں کے تن سے جدا ہوئے چند گھنٹے ہی ہو ئے تھے اپنا گناہ کہہ کر قبول کر لے گا۔”

“دونوں ماں باپ خاموشی میں اتنا بھول گئے تھے کہ اس چاکلیٹ دودھ کے خوف میں اور اس کی سمجھ آنے میں وہ معصوم نہ مکمل کھا پاتی تھی اور نہ سو پاتی تھی۔”

“" وہ مسکرائی- " تو مایوسی کے کھنڈر میں دب کر مرنے سے بہتر نہیں کہ ہم امید کا دیا جلا کر دوسروں کو بھی روشنی فراہم کریں اور خود بھی روشن ماحول میں زندگی گزاریں؟ .”

“اسے ڈر تھا کے ایسے اس کی اور اسکی بیٹی کی بہت بدنامی گی اور پھر شازیہ کی زندگی ایک مذاق بن کر رہ جایے گی.”
